خرید بک لینک
آزمانے کی ضد نہیں کرتے یوں ستانے کی ضد نہیں کرتے دل پہ کب اختیار ہے اپنا دل لگانے کی ضد نہیں کرتے بھول بیٹھے تو یاد رکھو گے بھول جانے کی ضد نہیں کرتے چند لمحوں کی روشنی کے لیے گھر جلانے کی ضد نہیں کرتے ایک دو پل کی التجا کی ہے ہم زمانے کی ضد نہیں کرتے گھر ہو جیسا بھی آخرش گھر ہے گھر سے جانے کی ضد نہیں کرتے ہم کہ ہجرت مزاج پنچھی ہیں آشیانے کی ضد نہیں کرتے شہر کی سوگوار گلیوں میں مسکرانے کی ضد نہیں کرتے بارشیں جب اداس ہوں ثاقبؔ! گنگنانے کی ضد نہیں کرتے

برچسب: غزل حشمت,غزل شاکری,غزل,غزل البنات,غزل سادات,غزل عراقي,غزل عنایت,غزلان,غزل چت,غزل شاکری قلک, نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 31 شهريور 1395 ساعت: 5:11

کسی بے نور شب میں

کوئی جگنو ، کوئی تارا

مری تنہائیوں کا استعارہ

آنکھ کی دہلیز پر اترے

تو کیا معلوم؟

کتنے درد بانٹے

کتنی آنکھوں کو رلائے

کتنی پلکوں کو اذیت سے جگائے

تو یوں کرنا

کہ اس لمحے

وہی جگنو

وہی تارا

مری تنہائیوں کا استعارہ

لبوں میں قید کر لینا

مجھے اس خوف سے آزاد کر دینا

برچسب: خوف,خوفو,خوفي عليك,خوف و رجا,خوفو خفرع منقرع,خوفي عليك كلمات,خوف القطط من الخيار,خوف بالانجليزي,خوف اسامة المسلم pdf,خوف ياحبك حبيبي بلا, نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: دوشنبه 22 شهريور 1395 ساعت: 5:54

محبت تلخ ہوتی ہے

مگر اتنی نہیں ہوتی

کہ جذبے تلخ ہو جائیں

اور ان جذبوں سے وابستہ

تعلق تلخ ہو جائے

برچسب: تلخی دهان,تلخی نکند شیرین ذقنم,تلخیص,تلخی دهان در بارداری,تلخی دهان در صبح,تلخی زندگی,تلخی قورمه سبزی,تلخی دهان نشانه چيست,تلخی گرفتن زیتون,تلخی دهان و جنسیت جنین, نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: دوشنبه 22 شهريور 1395 ساعت: 5:54

کبھی ہلکی سے رنجش بھی

ہزاروں وسوسے بیدار کرتی ہے

کبھی تھوڑی سے تلخی بھی

دلوں میں نفرتوں کے بیج بوتی ہے

تو ایسے مختصر لمحوں میں

پوری زندگی کا فیصلہ کرنا

نہ تجھ کو زیب دیتا ہے

نہ مجھ کو زیب دیتا ہے

برچسب: فیصلہ سازی, نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: دوشنبه 22 شهريور 1395 ساعت: 5:54

بارش ہو ، تم یاد نہ آؤ!

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

بارش میں اور تم میں

ایک تعلق ہے

بارش سے اور تم سے

ایک سا رشتہ ہے

میری آنکھوں میں جب غم کی

پہلی رِم جِھم برسی تھی

سب سے پہلے

تم نے

اپنے کومل کومل ہونٹوں سے

اُس رِم جِھم سے ڈھانپا تھا

اور اب بارش ڈھانپتی ہے

برچسب: بارش تم اور میں,بارش بادل تم اور میں, نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: دوشنبه 22 شهريور 1395 ساعت: 5:54

زندگی!

اس قدر مختصر بھی نہ ہو

میرے ہونٹوں پہ جو تشنگی رہ گئی

تشنگی ہی رہے

برچسب: التجاهل,التجارة الالكترونية,التجارة,التجاري وفا بنك,التجارة الدولية,التجارة من الصين,التجاري,التجارة مع الله,التجاني يوسف بشير,التجارة الحرة, نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: دوشنبه 22 شهريور 1395 ساعت: 5:54

اگر معلوم ہو جاتا کہ تنہائی اذیت ناک ہوتی ہے اکیلے ہوں تو ماضی کی سبھی یادیں لباسِ آتشیں پہنے ہتھیلی پر پرانی حسرتوں کا رنگ پھیلائے ہوئے اور پاؤں میں کانٹوں کی کتنی جھانجھریں باندھے نظر کے سامنے جب رقص کرتی ہیں تو آنکھیں خون روتی ہیں اگر معلوم ہو جاتا کہ تنہائی میں اپنے خواب بھی اپنے نہیں ہوتے کسی کی دسترس کا ہر گھڑی احساس رہتا ہے ذرا سی سرسراہٹ بھی کئی خود ساختہ خدشے جگاتی ہے در و دیوار سے وحشت ٹپکتی ہے یہ سنّاٹا ڈراتا ہے اگر معلوم ہو جاتا کہ تنہائی کے موسم سخت ہوتے ہیں ہوا ٹھہری رہے تب بھی بلا کا شور ہوتا ہے کئی طوفان اٹھتے ہیں بدن کو بارشوں میں ا

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: دوشنبه 22 شهريور 1395 ساعت: 5:54

کوئی اظہار کی صورت نکل آئے

تو اچھا ہے

وگرنہ ان کہے جذبے

ردائے حبس اوڑھے

جنبشِ لب کو ترستے ہے رہے

تو زندگی کے دشت میں ٹھہرے

نہ خود کو کھول پاؤ گے

نہ مجھ کو جان پاؤ گے

ذرا لب کھول کر دیکھو!

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: دوشنبه 22 شهريور 1395 ساعت: 5:54

صفحه بندی